5 نومبر 2011 - 20:30

”شیعہ ملکوں کا اتحاد“ ایک نئی قوت ہے جو ایران، عراق اور بحرین تک کے علاقوں پر محیط ہے۔ شام، سعودی عرب اور پاکستان کی شیعہ اقلیتیں انکے ساتھ شامل ہیں۔

ابنا: ”شیعہ ملکوں کا اتحاد“ ایک نئی قوت ہے جو ایران، عراق اور بحرین تک کے علاقوں پر محیط ہے۔ شام، سعودی عرب اور پاکستان کی شیعہ اقلیتیں انکے ساتھ شامل ہیں۔ اس قوت سے بھی امریکہ اور اسکے اتحادی خوفزدہ ہیں اس لئے کہ ان علاقوں میں انکے تذویراتی عزائم کی راہ میں یہ سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ، اسرائیل اور اسکے اتحادی پچھلی تین دہائیوں سے سازش کا ہر حربہ استعمال کر چکے ہیں، لیکن ایران کے عزم و استقلال میں کمی نہیں آئی ہے۔ یہ طاقت بھی ایک حقیقت ہے، قائم و دائم ہے اور ہماری سلامتی کی ضمانت ہے۔

خالق کائنات نے دنیا میں پھیلی ہوئی بہت سی خرابیوں کو درست کر کے نظام میں توازن قائم رکھا ہے۔ ماضی قریب میں ایسی دو مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ پہلی مثال جرمنی کے ہٹلر کی ہے، جس نے "جرمن قوم کے دنیا کی عظیم ترین قوم" ہونے کے زعم میں پوری دنیا کو تسخیر کرنے کا ارادہ کیا اور عالمی امن کو تہہ و بالا کر دیا لیکن صرف پندرہ سال کے مختصر عرصے میں "مشیت ایزدی" سے وجود میں آنے والے قوموں کے باہمی اتحاد نے اس کا غرور زمین بوس کر دیا۔ اسی طرح 1990ء میں سوویٹ یونین کی شکست و ریخت سے حوصلہ پا کر اور پوری دنیا پر امریکی برتری قائم کرنے کا عزم لیکر امریکی صدر جارج بش نے عالم اسلام کےخلاف "صلیبی جنگ" کا آغاز کیا اور یہ دعوی کیا کہ "اکیسویں صدی امریکہ کی ہے" لیکن یہاں ایک بار پھر "مشیت ایزدی" حرکت میں آئی اور صرف پندرہ سال کی قلیل مدت میں خستہ حال اور نہتے افغانیوں کے ہاتھوں امریکہ کو عبرتناک ہزیمت اٹھانا پڑی۔ اور عالمی بالادستی کا امریکی خواب افغانستان کے کوہستانوں میں دفن ہوکر رہ گیا ہے۔ اس عالمی دہشتگردی کے ردعمل میں اسلامی دنیا میں ایک نئی روح بیدار ہوئی ہے، جسکی تمازت سے ہمارے زخمی دلوں اور جسموں کو سکون و راحت حاصل ہے۔

دنیائے اسلام پچھلے تیس سالوں میں غیر مسلم قوتوں کی جارحیت کا نشانہ بنی رہی ہے، جس کے ردعمل میں "اسلامی مدافعتی قوت" کی مزاحمت اس عروج کو پہنچی کہ اسکے ہاتھوں افغانستان میں سوویٹ یونین، امریکہ، یورپ اور لبنان میں اسرائیل جیسی عالمی طاقتوں کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ عسکری قوتوں کے اس ٹکراﺅ کے نتیجے میں نئی نئی حقیقتیں جنم پائی ہیں کہ جس طرح دوسری عالمی جنگ کے بعد ایک نیا عالمی نظام قائم ہوا اور نئی حقیقتیں عالمی بساط پر نمودار ہوئی تھیں۔ جو نئی حقیقتیں اس ٹکراﺅ کے نتیجے میں عالم وجود میں آئی ہیں، ان کا ادراک ضروری ہے، تاکہ مستقبل قریب میں ان کے اثرات کا صحیح اندازہ لگایا جا سکے، یعنی کس طرح یہ قوتیں عالمی بساط پر متحرک ہوں گی اور نئے نظام کی تشکیل اور امن کی راہوں کا تعین کیسے ممکن ہو گا۔

افغانستان کی جنگ آزادی، کہ جہاں دنیائے اسلام کی عسکری اور نظریاتی قوت یکجا ہیں، اسکے سامنے دنیا کی ہر بڑی طاقت شکست کھا چکی ہے اور نہیں چاہتی کہ افغان قوم اپنی سوچ و نظریات کے مطابق اپنی حکومت بنائے۔ جس طرح 1989-90ء میں جب سوویٹ یونین افغانستان سے پسپا ہوا تھا تو افغانیوں کو آپس میں لڑایا گیا اور انہیں اقتدار سے دور رکھا گیا اور آج بھی جب امریکہ اور اسکے اتحادی، بدترین شکست سے دوچار ہیں تو پھر ایسی ہی سازشیں ہو رہی ہیں کہ طالبان کو افغانستان میں اقتدار سے محروم رکھا جائے، جو کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے، کیونکہ امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو، افغان قوم کی عسکری اور نظریاتی قوتوں کے سامنے پسپائی اور ناکامی کا سامنا ہے۔ طالبان کامیاب ہیں اور وہی پائیدار امن کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ ان حالات میں چار مختلف قوتیں، جو اس جنگ کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہیں، وہی اجتماعی شعور اور علاقائی امن کو ممکن بنائیں گی۔ ”دنیائے اسلام کی مدافعتی قوت“ افغانستان میں اللہ کے حکم پر مسلم دشمنوں کے خلاف خود بخود ظہور پذیر ہوئی۔ اللہ تعالٰی کا حکم برحق ہے: ”و ہ کونسی طاقت ہے جو تمہیں ان مظلوم مرد، عورتوں اور بچوں کی مدد کو پہنچنے سے روکتی ہے۔ جو پکار رہے ہیں کہ:یارب ہمارے لئے مددگار بھیج جو ہمیں اس ظلم و ستم سے نجات دلا سکیں۔“ (سورة النساµ آئتہ 75)

جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو یہی پروانے اللہ کی رضا کی تعمیل میں ”دنیا بھر کے ستر(70) ممالک سے افغانستان پہنچے، جہاد میں شامل ہوئے۔“ CIA Report اور افغانیوں کے ساتھ ملکر ملک کو آزاد کرایا۔ افغانیوں کو بظاہر یہ جنگ جیتنے کیلئے امریکہ، پاکستان اور سعودی عرب کی مدد حاصل تھی، لیکن یہی قوت تھی، جس نے 2001ء میں شروع ہونے والی جنگ میں امریکہ، نیٹو، بھارت اور پاکستان کو بغیر کسی دوسرے ملک کی مدد کے شکست دی۔

دنیائے اسلام کی یہ مدافعتی قوت، سایوں کی مانند ہے جو پھیلتی ہے، بڑھتی ہے، سمٹتی ہے، غائب ہو جاتی ہے اور پھر نمودار ہوتی ہے۔ اس کا تعلق کسی ایک خطہ یا ملک سے نہیں ہے۔ یہ ایک سوچ ہے، ایک نظریہ ہے، جس کا تعلق رضائے خداوندی اور بندے کے جذبہء ایمانی سے ہے۔ یہ قوت ملکوں کے معاملات میں دخل انداز نہیں ہوتی۔ اللہ کے حکم پر متحرک ہوتی ہے اور ادائیگی فرض کے بعد تحلیل ہو جاتی ہے۔ افغانستان سے قابض فوجوں کے نکلنے کے بعد یہ قوت بھی تحلیل ہو جائے گی اور کسی خطے یا ملک کیلئے خطرہ نہیں بنے گی۔

”پختونوں کا اتحاد“ ایک قوت ہے جو انکی سرزمین سے ابھری ہے۔ یہ سرزمین کراچی سے لے کر ہندوکش کے کوہساروں تک پھیلی ہوئی ہے اور ڈھائی کروڑ پاکستانی اور ڈیڑھ کروڑ افغانی پختونوں پر مشتمل ہے۔ یہ ایک ناقابل شکست طاقت ہے جس کی پہچان ان کی قدیم روایات، دینی نظریات اور قومی آزادی کیلئے ایثار و قربانی کی لازوال مثالیں ہیں۔ اس طاقت سے امریکہ اور اتحادی خوفزدہ ہیں ”اس لئے کہ علاقے میں انکے تذویراتی عزائم کی راہ میں یہی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔“ ڈیوڈ کل کلن، سابق امریکی مشیر برائے قومی سلامتی۔ یہ طاقت ایک حقیقت ہے۔ قائم و دائم ہے، ہماری سلامتی کی ضمانت ہے۔

”شیعہ ملکوں کا اتحاد“ ایک نئی قوت ہے جو ایران، عراق اور بحرین تک کے علاقوں پر محیط ہے۔ شام، سعودی عرب اور پاکستان کی شیعہ اقلیتیں انکے ساتھ شامل ہیں۔ اس قوت سے بھی امریکہ اور اسکے اتحادی خوفزدہ ہیں اس لئے کہ ان علاقوں میں انکے تذویراتی عزائم کی راہ میں یہ سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ، اسرائیل اور اسکے اتحادی پچھلی تین دہائیوں سے سازش کا ہر حربہ استعمال کر چکے ہیں، لیکن ایران کے عزم و استقلال میں کمی نہیں آئی ہے۔ یہ طاقت بھی ایک حقیقت ہے، قائم و دائم ہے اور ہماری سلامتی کی ضمانت ہے۔

مغربی دنیا اپنی شکست پر تلملا رہی ہے اور ان ابھرتی ہوئی طاقتوں سے خوفزدہ ہے اور خصوصاً امریکی صدر بش کی صلیبی جنگ کی ناکامی کے بعد نئی سازشوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ مثلاً شیعہ اور سنی ملکوں کے درمیان جنگ کا سامان مہیا کر دیا گیا ہے۔ ایک سازش کے تحت پچھلے دس سالوں میں ایران کو بے حد خطرناک ملک بنا کر پیش کیا گیا اور پڑوسی سنی ممالک کو خوفزدہ کر کے امریکہ نے سعودی عرب، مصر، شرق اردن اور گلف کواپریشن کونسل (جی سی سی) کے ممالک کو ایک سو پچاس بلین ڈالر کا جنگی سامان بیچا ہے، تاکہ وہ ایران سے لڑنے کیلئے تیار ہو جائیں۔ چند ماہ پہلے جب بحرین میں انقلاب برپا ہوا تو باغیوں کو کچلنے کیلئے سعودی عرب اور جی سی سی ممالک کی فوجیں بحرین میں داخل ہوئیں اور بغاوت کو کچل دیا گیا اور اس طرح شیعہ اور سنی ممالک کے درمیان جنگ کا فتنہ شروع کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ بھی اس سازش میں شامل ہے کہ دوسری جانب اصولوں کے خلاف ایک دوغلی پالیسی کے تحت، لیبیا کے انقلابیوں کی مدد کیلئے نیٹو کو فوجی کارروائی کی پوری اجازت دی گئی۔

”احیاء دین“ کا سورج نئی آب و تاب کے ساتھ ابھر چکا ہے اور استعماری قوتوں کے ظلم و ستم کے اندھیروں کو روشنی میں بدلتا جا رہا ہے۔ مثلاً ترکی میں جو تبدیلی آئی ہے اسکی پہنچ دمشق سے لے کر ترکمانستان تک ہے۔ یہ سلسلہ نقشبندی ہے، جو پہلی جنگ عظیم سے لے کر اب تک سخت دباﺅ میں رہا ہے۔ اسکی معتدل سوچ نے ایک نئی نظریاتی فضا پیدا کر دی ہے۔ اسی طرح مصر کا انقلاب ہے جو آہستہ آہستہ اپنے نظریات کا تعین کر چکا ہے، جس کے سبب تیونس سے لے کر لیبیا، سوڈان اور مشرق وسطٰی تک ایک نئی فضا بن چکی ہے۔ یہ سلسلہ قادریہ ہے جس کی معتد ل سوچ نے ان علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور وہ تمام ممالک جہاں، عرب بہار، (Arab Spring) کا چرچا ہے، مثلاً مصر، لیبیا، یمن، صومالیہ اور مراکش، وہاں مضبوط اسلامی تحریکیں زور پکڑ چکی ہیں۔ یہ تبدیلیاں اور بدلتے ہوئے حالات خواب سے بیداری کا پیغام ہیں، نوید سحر ہیں۔

پاکستان ان تمام انقلابی تبدیلیوں سے بےحد متاثر ہوا ہے اور خصوصاً افغانستان پر روس، امریکہ اور اتحادیوں کا قبضہ اور تیس سالوں پر محیط افغانیوں کی جنگ آزادی اور ایران و عراق جنگ کے خطرناک اثرات کے سبب پاکستان کی اقتصادیات، معیشت اور امن و امان تباہی کے دہانے پہنچ چکے ہیں اور ایک سازش کے تحت افغانستان کی جنگ کو پاکستان پر پلٹ دیا گیا، جس کے سبب پچھلے چھ سالوں سے پاکستان کی فوج اپنے ہی قبائلیوں سے حالت جنگ میں ہے۔ ہماری بے راہ رو قومی سیاست، کمزور حکمرانی، کرپشن اور بد عنوانی، قلت و مہنگائی اور دہشتگردی نے زندگی مشکل بنا دی ہے۔ یہ ایک مصائب کا پہاڑ ہے لیکن اسکے آگے ایک اور بلند پہاڑ کا سامنا ہے،یعنی ہماری، نظریاتی تقسیم، جو ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے۔

پاکستان میں دینی جماعتیں اور احیاء دین کا بڑا چرچا ہے۔ ایک اژدہام ہے فرقوں کا، مسالک کا، جماعتوں کا اور مدارس کا، کہ جس سے قوم لاتعلق نظر آتی ہے۔ ملک کی سیاست، معاشرت اور قومی کردار دینی نظریات کی رحمتوں کی بارش سے محروم نظر آتی ہیں، خشک سالی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روشن خیال اور سیکولر سوچ رکھنے والے مطالبہ کرتے ہیں کہ قوم کی نظریاتی سمت تبدیل کر دو، کیونکہ ستر فیصد سے زیادہ پاکستانی دین کی تعلیم سے نابلد ہیں۔ اپنی شناخت کھو چکے ہیں، ان کو نئی شناخت چاہئیے، انہیں ایک نئے نظریہ حیات کی ضرورت ہے۔

لیکن ان تمام برائیوں کے باوجود ہماری کمزور و ناتواں پاکستانی قوم اپنے کندھوں پر محرومیوں اور ناکامیوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے اب بھی اسی راستے پر گامزن ہے، جس کا تعین اس نے 1947ء میں کیا تھا؛ یعنی ”انصاف پر مبنی جمہوری نظام کا قیام کہ جس کی بنیادیں قرآن و سنت کے اصولوں پر قائم ہوں۔“ یہ نظریہ حیات، یہ راستہ اور یہ منزل پاکستانی قوم کبھی نہیں بھولی ہے، خواہ وہ 1970ء کا تکلیف دہ سفر ہو یا 1988ء اور 2008ء کے انتخابات ہوں اور آج بھی ہماری قوم ہی کو مشکل فیصلہ کرنا ہے جبکہ ہماری سیاست میں گرما گرمی آ چکی ہے اور ”کاروباری حکمرانوں کے مابین اپنے کاروبار کو فروغ دینے کی ہوس میں اقتدار کی دوڑ لگی ہوئی ہے، جو تباہی کا پیغام ہے۔“ (ابن خلدون) ملک کو تباہی سے بچانے کیلئے کاتب تقدیر نے